
تحقیقات کے دوران جب پولیس ٹیم نے مذکورہ گھر کا معائنہ کیا تو بیرونی دروازے سے پردہ ہٹا کر اندر داخل ہوتے ہی سامنے ایک بڑا گڑھا موجود پایا گیا، جو فوری طور پر توجہ کا مرکز بنا۔
گھر کے اندرونی حصے میں ایک کمرے میں پرانا بیڈ رکھا ہوا تھا، جبکہ دوسرے کمرے میں دو چارپائیوں پر بستر بچھے ہوئے تھے۔ اسی کمرے کے ایک کونے میں گیس کا چولہا اور اس کے ساتھ موجود برتن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جگہ باورچی خانے کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی۔
تحقیقی مشاہدے کے مطابق گھر کے دونوں اطراف بلند عمارتیں واقع ہیں، جبکہ درمیان میں ایک کھلا صحن موجود ہے، جہاں رکھا ہوا مٹی کا چولہا کافی عرصے سے استعمال میں نہیں تھا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق 16 دسمبر کو اسی گھر کے بیت الخلا کے سامنے واقع ایک گڑھے سے تین لاشیں برآمد کی گئیں۔ بعد ازاں فاروق نامی شخص کو اپنی اہلیہ طاہرہ اور دو کمسن بیٹیوں کے قتل کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔ واقعے سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
